اُ ر د و فُو ر مقربانی کیوں کی جاتی ہے اور اس کی کیا فضیلت ہے؟
Sajid Staff asked 2 months ago
قربانی اسلام کا ایک عظیم، عاشقانہ، والہانہ اور بے حد فضیلت والا حکم ہے۔ ہر زمانے میں مسلمانوں نے نہایت محبت، عشق اور اہتمام سے اس حکم کو پورا کیا اور پورا پورا سال اس کی تیاری اور انتطار میں گزارا۔ مگر اس زمانے کے ملحدین اور نام نہاد روشن خیالوں نے مسلمانوں کے دلوں سے قربانی کی اہمیت کم کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے۔ اس لئے اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ مسلمانوں کو عیدالاضحٰی کے موقع پر قربانی کی اہمیت اور فضیلت پوری قوت کے ساتھ بیان کی جائے اور انہیں ملحدین کے ناپاک پروپیگنڈے سے محفوظ رکھا جائے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ تعالی سے محبت

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ انہوں نے اللہ تعالی کے حکم پر اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چھری چلادی اور عشق کے امتحان میں کامیاب ہوگئے۔ آج ہم سے بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کا تقاضا نہیں کیا گیا بلکہ اپنے پاکیزہ مال سے ایک حلال جانور خرید کر ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پورے ذوق و شوق اور اہتمام کے ساتھ اس حکم کو پورا کریں اور اس میں بڑھ چڑھ کر سبقت کریں۔

قربانی کے فضائل

آیئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک احادیث کی روشنی میں قربانی کے چند فضائل پڑھتے ہیں۔

حدیث نمبر 1:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “یوم النحر یعنی عیدالاضحٰی کے دن اولاد آدم کا کوئی عمل اللہ تعالی کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور قربانی والا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کی رضا اور قبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے پس اے اللہ کے بندو پوری خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔”* (ترمزی)

حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ عیدالاضحٰی کے دن خون بہانا اللہ تعالی کے نزدیک محبوب ترین عمل ہے پس جو عمل محبوب حقیقی کو محبوب ہوا اسے کس قدر محبت اور اہتمام سے ادا کرنا چاہیے۔

حدیث نمبر 2:

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ قربانیاں کیا ہیں؟ “آپ صلی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تمھارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ہمارے لئے ان میں کیا (اجر) ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ (جانور) ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اون کا بھی یہی حساب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں اون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی۔”* (احمد)

حدیث شریف بلکل واضح ہے اب خود اندازہ لگا لیجئے کہ جانور کے جسم پر کتنے بال اور کتنی اون ہوتی ہے۔ اور پھر جس قدر اخلاص اور تقویٰ زیادہ ہوگا اسی قدر اجر و ثواب بھی بڑھتا جائے گا کیونکہ اللہ پاک کو نہ خون کی ضرورت ہے اور نہ گوشت کی اس تک تو بندے کا تقویٰ پہنچتا ہے۔