اُ ر د و فُو ر مCategory: اردو شاعریمحمد ساجد عالم کی ایک غزل
Sajid asked 1 month ago
کہیں بھی ظلم کی تلوار سے ہرگز نہیں ڈرتے 
کسی طاغوت کی چوکھٹ پہ اپنے سر نہیں جھکتے 
 محمد کی غلامی کا گلے میں طوق پہنا ہے 

 ھو اللہ احد اب چڑھ کے سولی پر بھی کہنا ہے 
ہم ہی للکار قاسم ہیں ہم ہی شمشیر حیدر ہیں 
ہم ہی دشمن کے سینے میں گھپا اک تیز خنجر ہیں
 جلا دی ہم نے ساحل پر ہی اپنی کشتیاں ساری 
کہ یہ سب کچھ نہیں اس راہ میں ہو جان بھی واری
زباں اگلے گی حق کی بات ہی چاہے وہ کٹ جائے 
یہاں تک کہ عدو دین خود راستے سے ہٹ جائے
 یہ سینے صورت فولاد  ڈٹ جاتے ہیں میدان میں
خدا کہتا  ہے خود  بنیان مرصوص ان کو  قرآن میں
ہزاروں بند بادھو ہم وہ طوفان جو نہیں تھمتے 
طلب منزل کی سچی ہو تو رستے میں نہیں جمتے 
بھروسہ ہے ہمیں اللہ کی تائید ونصرت پر 
غلامان محمد تو ہتھیلی پر لیے سر 
ہمیں دنیا سے کیا مطلب ہم اس سے کچھ نہ لیتے ہیں‌
کہ ہم جنت کے بدلے اپنی جان کو بیچ دیتے ہیں
 عدو پر بھپرے شیروں کی طرح سے ہم چھپتے ہیں 
پلٹتے ہیں جھپٹتے ہیں جھپٹ کر پھر پلٹتے ہیں